زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض کی صراحت کے ساتھ دی ہوئی زکوۃ کی رقم کا حکم

فتوی نمبر :
87319
| تاریخ :
2025-10-05
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض کی صراحت کے ساتھ دی ہوئی زکوۃ کی رقم کا حکم

ایک شخص نے زکوۃدینے کی نیت سے کچھ رقم الگ کی،پھر ایک مستحقِ زکوۃشخص کو یہ کہہ کر دے دی کہ یہ قرض ہے،اب سوال یہ ہے کہ کسی کو قرض کہہ کر زکوۃ دینے سے زکوۃادا ہوگی یا نہیں؟اگر ادا ہوگی، تو ایک سوال یہ ہے کہ زکوۃکے معنی ہیں تملیک ِفقیر،قرض دینے سے من کل الوجوہ ملکیت ثابت نہیں ہوتی؟اس سوال کا اطمینان بخش جواب دے کر ممنون فرمائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر زکوۃ ادا کرنے والاشخص ابتداء ہی سے زکوٰۃ کی نیت کرلے، لیکن مستحقِ زکوٰۃ کو وہ رقم قرض کے نام سے دےتو اس صورت میں بھی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے،کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کیلئے جنسِ تملیک چاہے کسی بھی عنوان سے ہو، فقہاء کی تصریحات کے مطابق کافی ہے، البتہ پیشگی نیتِ زکوۃ ضروری ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص نےجب زکوۃ کی نیت سے کسی فقیر اور مستحقِ زکوۃ شخص کو رقم دی، تو اگر چہ اس نے قرض کے عنوان سے یہ رقم دی ہو، تو شرعاً تب بھی اس کی زکوۃ ادا ہوگئی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: ومن أعطی مسکینا دراھم وسماھا ھبۃ أو قرضاً ونوی الزکاۃ فإنھا تجزیہ وھو الأصح ھکذا فی البحر الرائق ناقلا عن المبتغی والقنیۃ الخ (کتاب الزکاۃ، ج1، ص189،ط:دارالکتب العلمیۃ)۔
وفی مجمع الأنھر: ولا یشترط علم الفقیر بأبھا زکاۃ علی الاصح لما فی البحر عن القنیۃ والمجتنی الاصح أن من أعطی مسکینا دراھم وسماھا ھبۃ او قرضا ونوی الزکاۃ فإبھا تجزیہ لأن العبرۃ لنیۃ الدافع لالعلم المدفوع بہ الخ (کتاب الزکاۃ، ج1، ص196، ط:داراحیاء التراث العربی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87319کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات