السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک شخص اپنی ملازمہ کو زکوٰۃ کے پیسوں سے فلیٹ خرید کر دیتا ہے، لیکن ملازمہ کا شوہر اور بچے کوئی کام نہیں کرتے، اور وہ شخص ڈرتا ہے کہ اگر فلیٹ ملازمہ کے نام کر دیا گیا تو اُس کا شوہر یا بچے فلیٹ بیچ دیں گے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ فلیٹ اپنے نام پر رکھے۔ تو کیا اس طرح اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، یا ضروری ہے کہ فلیٹ ملازمہ کے نام کیا جائے؟
واضح ہو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ میں دی جانے والی چیز مستحقِ زکوٰۃ کو باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ دیدی جائے، تاکہ مستحقِ زکوٰۃ اس میں جس طرح چاہے،اپنی مرضی سے تصرف کر سکے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت مستحقِ زکوٰۃ ہوتو وہ شخص جب تک زکوۃ کے پیسوں سے فلیٹ خرید کر مذکورہ عورت کو باقاعدہ مالکانہ حقوق و قبضہ کے ساتھ نہیں دے گااس کی زکوۃ ادا نہ ہوگی۔ لہذا اس شخص کو چاہیے کہ وہ فلیٹ کی فائل اپنے پاس رکھ کر فلیٹ مذکور عورت کو باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ حوالے کردےاس طرح کرنے سے اس کی زکوۃ بھی درست ادا ہوجائے گی، اور جو خدشہ فروخت کرنے کا ہےوہ بھی نہ رہے گا۔
کمافی الھندیة: (منھا الفقیر) وھو من لہ أدنی شیئ وھو ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجة فلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرة غیر نامیة اذا کانت مستغرقة بالحاجة کذا فی فتح القدیر اھ(187/1)-
وفیھا أیضًا: ویجوز دفعھا إلی من یملک أقل من النصاب وإن کان صحیحا مکتسبا کذا فی الزاھدی(189/1)-
وفی الدر المختار: وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه اھ (کتاب الزکوۃ، ج:2، ص: 256، ناشر: سعید)-
وفی الدر المختار أیضاً: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره اھ (باب المصرف، ص: 137)-