کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درجِ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ایک بندہ ہے اس کے پاس نہ اپنا گھر ہے نہ نقدی ہے نہ ضرورت سے زیادہ سامان ہے( یعنی چارپائی ، زیر استعمال اشیاء وغیرہ کے علاو کچھ موجود نہیں)گھر میں ۲ تول سونا ہے وہ بھی بیوی کی مہر ملکیت ہے آیا اس بندہ پر زکوٰۃ ہوسکتاہے یا نہیں اس مسئلے کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں اور ساڑھے تین ہزار تنخواہ ہے جو ماہانہ خرچ ہوجاتی ہے۔
مذکور شخص کے صاحب نصاب نہ ہونے کی وجہ سے اسے زکوٰۃ یا دیگر صدقات واجبہ کی مد سے دینا بلا شبہ جائزاور درست ہے ۔
فی الهدایة: ولیس فی درو السکنٰی وثیاب البدن وأثاث المنزل ودواب الرکوب وعبید الخدمة وصلاح الاستعمال زکوٰة. (۱/ ۱۸۶)
وفی الهندیة: ویجوز دفعها الی من یملك اقل من النصاب، وإن کان صحیحًا مکتسبًا کذا فی الزاهدی (۱۸۹) واللہ اعلم